Sunday, 21 September 2014

Filled Under:

عمرے کا طریقہ

عمرے کا طریقہ
طواف کا طریقہ


) طرف رُکنِ یَمانی کی جانب حجرِ اَسْود کے قریب اِس طرح کھڑے ہوجائیے کہ پورا ’’حَجَرِ اَسوَد‘‘آپ کے سیدھے ہاتھ کی طرف رہے۔ اب بِغیر ہاتھ اُٹھائے اِس طرح طواف کی نیَّتکیجئے:

umrah

نیَّت کرلینے کے بعد کَعْبہ شریف ہی کی طرف مُنہ کئے سیدھے ہاتھ کی جانب اتنا چلئے کہ حَجَرِاَسْوَد آپ کے عَین سامنے ہو جائے۔( اور یہ معمولی سا سرکنے سے ہو جائے گا، آپ حجرِ اسود کی عین سیدھ میں آ چکے اِس کی علامت یہ ہے کہ دُور ستون میں جو سبز لائٹ لگی ہے وہ آپ کی پیٹھ کے بالکل پیچھے ہو جائے گی)

سبحٰن اللہ عزوجل !یہ جنَّت کا وہ خوش نصیب پتھر ہے جسے ہمارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطفیٰ صلی اللہ تعالی ٰ علیہ وآلہ وسلم نے یقیناً چوما ہے۔ اب دونوں ہاتھ کانوں تک اِس طرح اُٹھائیے کہ ہتھیلیاں حَجَرِاَسْوَد کی طرف رہیں اور پڑھئے

umrah

اب اگر ممکن ہو تو حَجَرِاَسْوَد شریف پر دونوں ہتھیلیاں اور اُن کے بیچ میں مُنہ رکھ کر یوں بوسہ دیجئے کہ آواز پیدا نہ ہو، تین بار ایسا ہی کیجئے۔سبحٰن اللہ عزوجل ! جھوم جائیے کہ آپ کے لب اُس مُبارَک جگہ لگ رہے ہیںجہاں یقیناً مدینے والے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لب ہائے مبارَکہ لگے ہیں۔ مچل جائیے ….تڑپ اُٹھئے….اور ہوسکے تو آنسوئوں کو بہنے دیجئے۔ حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں کہ ہمارے میٹھے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حَجَرِاَسْوَد پر لب ہائے مبارَکہ رکھ کر روتے رہے پھر اِلتِفات فرمایا (یعنی توجُّہ فرمائی) تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرتِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی رورہے ہیں۔ اِرشاد فرمایا:اے عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ! یہ رونے اور آنسو بہانے کاہی مقام ہے۔ (اِبن ماجہ ج۳ ص۴۳۴ حدیث۲۹۴۵)

رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں

ذِکْرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں

اِس بات کا خیال رکھیے کہ لوگوں کو آپ کے دَھکّے نہ لگیں کہ یہ قُوّت کے مُظاہَرہ کی نہیں،عاجِزی اور مسکینی کے اِظہار کی جگہ ہے۔ ہُجُوم کے سبب اگر بوسہ مُیَسَّر نہ آسکے تو نہ اوروں کو ایذا دیں نہ خود دَبیں کچلیں بلکہ ہاتھ یا لکڑی سے حَجَرِاَسوَد کو چُھو کر اُسے چُوم لیجئے، یہ بھی نہ بَن پڑے تو ہاتھوں کا اِشارہ کر کے اپنے ہاتھوں کو چُوم لیجئے، یہی کیا کم ہے کہ مَکّی مَدَنی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مُبارَک مُنہ رکھنے کی جگہ پر آپ کی نگاہیں پڑرہی ہیں۔
حَجَرِاَسْوَدکوبوسہ دینے یا لکڑی یاہاتھ سے چھُوکر چُومنے یاہاتھوں کا اِشارہ کر کے انھیں چُوم لینے کو ’’اِستلام‘‘کہتے ہیں۔
فرمانِ مصطَفٰےصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہے: روزِ قیامت یہ پتَّھر اُٹھا یا جائے گا، اِس کی آنکھیں ہو ں گی جن سے دیکھے گا، زبان ہوگی جس سے کلام کرے گا، جس نے حق کے ساتھ اُس کا اِ ستِلام کیااُس کے لیے گواہی دے گا۔
(ترمذی ج۲ص۲۸۶حدیث۹۶۳)

عمرے کا طریقہ

طواف کا طریقہ

) طرف رُکنِ یَمانی کی جانب حجرِ اَسْود کے قریب اِس طرح کھڑے ہوجائیے کہ پورا ’’حَجَرِ اَسوَد‘‘آپ کے سیدھے ہاتھ کی طرف رہے۔ اب بِغیر ہاتھ اُٹھائے اِس طرح طواف کی نیَّتکیجئے:
umrah
نیَّت کرلینے کے بعد کَعْبہ شریف ہی کی طرف مُنہ کئے سیدھے ہاتھ کی جانب اتنا چلئے کہ حَجَرِاَسْوَد آپ کے عَین سامنے ہو جائے۔( اور یہ معمولی سا سرکنے سے ہو جائے گا، آپ حجرِ اسود کی عین سیدھ میں آ چکے اِس کی علامت یہ ہے کہ دُور ستون میں جو سبز لائٹ لگی ہے وہ آپ کی پیٹھ کے بالکل پیچھے ہو جائے گی)
سبحٰن اللہ عزوجل !یہ جنَّت کا وہ خوش نصیب پتھر ہے جسے ہمارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطفیٰ صلی اللہ تعالی ٰ علیہ وآلہ وسلم نے یقیناً چوما ہے۔ اب دونوں ہاتھ کانوں تک اِس طرح اُٹھائیے کہ ہتھیلیاں حَجَرِاَسْوَد کی طرف رہیں اور پڑھئے
umrah
اب اگر ممکن ہو تو حَجَرِاَسْوَد شریف پر دونوں ہتھیلیاں اور اُن کے بیچ میں مُنہ رکھ کر یوں بوسہ دیجئے کہ آواز پیدا نہ ہو، تین بار ایسا ہی کیجئے۔سبحٰن اللہ عزوجل ! جھوم جائیے کہ آپ کے لب اُس مُبارَک جگہ لگ رہے ہیںجہاں یقیناً مدینے والے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لب ہائے مبارَکہ لگے ہیں۔ مچل جائیے ….تڑپ اُٹھئے….اور ہوسکے تو آنسوئوں کو بہنے دیجئے۔ حضرتِ سیِّدُناعبداللّٰہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں کہ ہمارے میٹھے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حَجَرِاَسْوَد پر لب ہائے مبارَکہ رکھ کر روتے رہے پھر اِلتِفات فرمایا (یعنی توجُّہ فرمائی) تو کیا دیکھتے ہیں کہ حضرتِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی رورہے ہیں۔ اِرشاد فرمایا:اے عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ! یہ رونے اور آنسو بہانے کاہی مقام ہے۔ (اِبن ماجہ ج۳ ص۴۳۴ حدیث۲۹۴۵)
رونے والی آنکھیں مانگو رونا سب کا کام نہیں
ذِکْرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں
اِس بات کا خیال رکھیے کہ لوگوں کو آپ کے دَھکّے نہ لگیں کہ یہ قُوّت کے مُظاہَرہ کی نہیں،عاجِزی اور مسکینی کے اِظہار کی جگہ ہے۔ ہُجُوم کے سبب اگر بوسہ مُیَسَّر نہ آسکے تو نہ اوروں کو ایذا دیں نہ خود دَبیں کچلیں بلکہ ہاتھ یا لکڑی سے حَجَرِاَسوَد کو چُھو کر اُسے چُوم لیجئے، یہ بھی نہ بَن پڑے تو ہاتھوں کا اِشارہ کر کے اپنے ہاتھوں کو چُوم لیجئے، یہی کیا کم ہے کہ مَکّی مَدَنی سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے مُبارَک مُنہ رکھنے کی جگہ پر آپ کی نگاہیں پڑرہی ہیں۔
حَجَرِاَسْوَدکوبوسہ دینے یا لکڑی یاہاتھ سے چھُوکر چُومنے یاہاتھوں کا اِشارہ کر کے انھیں چُوم لینے کو ’’اِستلام‘‘کہتے ہیں۔
فرمانِ مصطَفٰےصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہے: روزِ قیامت یہ پتَّھر اُٹھا یا جائے گا، اِس کی آنکھیں ہو ں گی جن سے دیکھے گا، زبان ہوگی جس سے کلام کرے گا، جس نے حق کے ساتھ اُس کا اِ ستِلام کیااُس کے لیے گواہی دے گا۔
(ترمذی ج۲ص۲۸۶حدیث۹۶۳)
- See more at: http://websites.dawateislami.net/html/hajj-umrah/?page_id=586#sthash.GUnk2JvZ.dpuf

0 comments:

Post a Comment

Copyright @ 2018 Islam Ka Noor.